Shair

شعر

ہرنی سی ایک آنکھ کی مستی میں قید تھی
اک عمر جس کی کھوج میں پھرتا رہا ،وہ نیند

(امجداسلام امجد)

اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

(میر)

نہ سائباں نہ کوئی چاندنی بچھائی ہے
یہ جان دے کے جوانی کی نیند آئی ہے

(شمیم)

تاروں کا گو شمار میں آنا محال ہے!!
لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے!!

(احمد ‌ندیم ‌قاسمی)

خواب بند ایسی داستاں ستائے
جس سے آنکھوں میں نیند شہ کی آئے

(ہشت گلزار)

گُھومی ہے رتجگوں کے نگر میں تمام عُمر
ہر رہگزارِ درد سے ہے آشنا ‘ وہ نیند

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16
Pinterest Share