Shair

شعر

رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
ابھی تو تلخی کام و دہن کی آزمائش ہے

(غالب)

ایک بھائی کو ہے فاقہ ایک کرتا زہر مار
اٹھ گئی دنیا کے پردے سے محبت آج کل

(جان صاحب)

ایک صاحب نے قبول اس زہر کا پیانہ گیا
جن نے ٹکڑے سب جگر آناً فآناً کسردیا

(سودا)

مجھ کو سوادِ خط نہیں اور عشق ہے دو حرف
جس کا نہ پیش ہے نہ زہر ہے نہ زیر ہے

(میرحسن)

کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی

(میر)

سر ھسین سے آواز یہ ہوئی پیدا
میں ہوں علی کا پسر جان فاطمہ زہر

(فیض بھرت پوری)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share