• سر ھسین سے آواز یہ ہوئی پیدا
    میں ہوں علی کا پسر جان فاطمہ زہر
    فیض بھرت پوری
  • لے نگاہ مہر سے دل مت بچشم قہر دیکھ
    گڑ دیئے سے جو مرے تو دے نہ اس کو زہر دیکھ
    ذوق
  • لذتِ زہر غم فرصتِ دلداراں سے
    ہووے منہ میں جنھوں کی شہد و شکر مت پوچھو
    میر تقی میر
  • ٹھہرو کہ آئینوں پہ ابھی گرد ہے جمی
    سینوں کا سارا زہر نگاہوں میں آگیا
    وزیر ‌آغا
  • میری جوتی سے زہر کھایا ہے
    مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے
    شوق قدوائی
  • عشق کا زہر اوس سوں کیوں او تیرے (کذا)
    ناگ تجہ زلف کا جسے چٹکا
    داؤد اورنگ آبادی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter