• زندگی کیا جانے کیوں محسوس ہوتا ہے مجھے
    تجھ سے پہلے بھی ہو جیسے زہر یہ چکھا ہوا
    صہبا اختر
  • نو روز ہور روزِ عید کی خوشیاں ملے یک چاند میں
    مارو رقیباں کے دلاں میں زہر بیکاں عید کا
    قلی قطب شاہ
  • شربت مرگ آب حسرت شور یختی زہر غم
    تلخ کامی سے مجھے کیا کیا گوارا ہو گیا
    مومن
  • یاں تک رہے جدا کہ ہمارے مذاق میں
    آخر کو زہر ہجر بھی تریاق ہو گیا
    جوشش
  • لگا میٹھا برس جب سے یہ صورت زہر لگتی ہے
    کہیں مشاطہ کر پیغام اب مصری کی نسبت کا
    جان صاحب
  • کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
    ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter