• ڈستا رہے گا اب تو یونہی زندگی کا ناگ
    ہونا پڑے گا زہر کا خوگر سہیلیو!
    عطیہ ‌بتول ‌بانو
  • میں تو اخلاص کا مینار ہوں‘ سقراط نہیں
    کیوں میرے دوست مجھے زہر دیا کرتے ہیں
    نامعلوم
  • اس درجہ تلخ لہجے میں باتیں نہ کیجئے
    لفظوں کا زہر پھیل نہ جائے زبان پر
    باقی صدیقی
  • زندگی کیا جانے کیوں محسوس ہوتا ہے مجھے
    تجھ سے پہلے بھی ہو جیسے زہر یہ چکھا ہوا
    صہبا اختر
  • ہے ضرر میرے مقدر میں اثر کے بعد
    زلف سے زہر ملا شیر و شکر کے بدلے
    واجد علی شاہ
  • کس کس سے رہیں دور‘ تو کس قرب کو ڈھونڈیں
    دیتے ہیں محبت میں یہاں زہر بدل کر
    علامہ ‌رشید ‌ترابی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter