• ایک صاحب نے قبول اس زہر کا پیانہ گیا
    جن نے ٹکڑے سب جگر آناً فآناً کسردیا
    سودا
  • میں از قبیل جواہر ہوں باز زہر فلک
    ولیک سختی طالع مری ہے سنگ سماق
    سودا
  • سبز چہرے نے ترے اے سبز بخت
    زہر قاتل ہو کیا جیو لخت لخت
    ولی
  • او زہر ڈنک نینو جو پیے گا نین سو دھاک
    دیوانہ سیں آگ برہ تھے کباب تھا
    قلی قطب شاہ
  • خرد کا زہر عدم موت ہے جوانی کی
    وہ خوش نصیب ہے جو مرد ہوشمند نہیں
    عبدالحمید ‌عدم
  • کئے ہیں مومناں کسوت حسن کے زہر تھے ہریا
    سو اس کے چھاؤں تھے اسمان اپنا رنگ بھرایا ہے
    قلی قطب شاہ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter