• نگاہیں ہیں کہ اک پیمانہ زہر ہلا ہل ہیں
    ہیں افعی کا کلیں اور عقرب جرارہ ہیں ابرو
    عزیز لکھنؤی
  • سبھوں کو مے‘ ہمیں خونناب دل پلانا تھا
    فلک ہمیں پہ تجھے کیا یہ زہر کھانا تھا
    نظیر
  • زہر قاتل عشق زلف آئینہ رخسار ہے
    لاکھ بسوے مار ہی ڈآلیگی حیرانی مجھے
    فیض( شمس الدین)
  • میں ہوں وہ کشتہ کہ بیگانہ ہے سبزہ جس سے
    اور اگر ہے تو ہے آغشتہ زہر اب سناں
    ذوق
  • چڑھے گا زہر خوشبو کا اُسے آہستہ آہستہ
    کبھی بھگتے گا وہ خمیازہ پھولوں کے مسلنے کا
    اقبال ‌ساجد
  • میری جوتی سے زہر کھایا ہے
    مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے
    شوق قدوائی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter