• میری جوتی سے زہر کھایا ہے
    مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے
    شوق قدوائی
  • جب وہاں چمکے افق میں زہر دامان سحاب
    میری جانب سے وطن کو اس طرح کرنا خطاب
    مطلع انوار
  • خرد کا زہر عدم موت ہے جوانی کی
    وہ خوش نصیب ہے جو مرد ہوشمند نہیں
    عبدالحمید ‌عدم
  • شربت مرگ آب حسرت شور یختی زہر غم
    تلخ کامی سے مجھے کیا کیا گوارا ہو گیا
    مومن
  • لگا میٹھا برس جب سے یہ صورت زہر لگتی ہے
    کہیں مشاطہ کر پیغام اب مصری کی نسبت کا
    جان صاحب
  • کاسہ میں فلک کے رہے اک بُوند نہ زہر اب
    دھر کھینچے اگر تشنہ لب جامِ محبت
    ذوق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter