• میں ہوں وہ کشتہ کہ بیگانہ ہے سبزہ جس سے
    اور اگر ہے تو ہے آغشتہ زہر اب سناں
    ذوق
  • وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے
    یہ وہی خدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے
    بشیر بدر
  • زہر آنکھوں سے ٹپکتا ہے عیاذاًباللہ
    قہر کا ہے جو تہور تو غضب کی ہے نگاہ
    مونس
  • چھپتی ہے ڈھال کے گھونگھٹ میں نکلتی ہے کبھی
    خون پیتی ہے کبھی زہر اگلتی ہے کبھی
    عروج
  • لذت زہر غم فرقت دل داراں سے
    ہووے منھ میں جنہوں کے شہد و شکر مت پوچھو
    میر
  • میری جوتی سے زہر کھایا ہے
    مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے
    شوق قدوائی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter