• تیرا خنجر ہے نہنگ ایسا کہ غرق زہر اب
    تیری شمشیر وہ اژدر ہے کہ ہے آتش دم
    ذوق
  • آنکھ ہے جام ہلا ہل حب افیوں خال لب
    ایک کیفیت ہے قاتل زہر اور تریاک میں
    نواب علی
  • ہے ضرر میرے مقدر میں اثر کے بعد
    زلف سے زہر ملا شیر و شکر کے بدلے
    واجد علی شاہ
  • افعی گیسو ڈسے کیا غم ہے فیض
    زہر میرے واسطے پا زہر ہے
    دیوان فیض
  • کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
    ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی
    میر
  • ایک صاحب نے قبول اس زہر کا پیانہ گیا
    جن نے ٹکڑے سب جگر آناً فآناً کسردیا
    سودا
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter