• زباں پہ حرفِ خلوص‘ اور دل میں زہر نفاق
    یہ دوستی ہے تو پھر اور دشمنی کیا ہے
    اقبال صفی پوری
  • لذت زہر غم فرقت دل داراں سے
    ہووے منھ میں جنہوں کے شہد و شکر مت پوچھو
    میر
  • جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اُتر گیا
    پرچھائیں زندہ رہ گئی‘ انسان مرگیا
    امید ‌فاضلی
  • مرا آنسو ہے وہ زہر آب‘ نیلا ہو بدن‘ سارا
    خدا نا کردہ لگ جائے گر اے غم خوار دامن سے
    ذوق
  • یاں زہر دے تو زہر لے، شکر میں شکر دیکھ لے
    نیکوں کو نیکی کا مزہ موذی کو ٹکر دیکھ لے
    نظیر
  • عشق کا زہر اوس سوں کیوں او تیرے (کذا)
    ناگ تجہ زلف کا جسے چٹکا
    داؤد اورنگ آبادی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter