• ہم نے جب وادی غربت میں قدم رکھا تھا
    دور تک یادِ وطن آئی تھی سمجھانے کو
    وحید الہ بادی
  • وفا دامن کش پیرایہ ہستی ہے اے غالب
    کہ پھر نزہت گہ غربت سے تاحد وطن لائی
    غالب
  • اس بحر میں رہا مجھے چکر بھنور کے طور
    سر گشتگی میں عمر گئی سب وطن کے بیچ
    میر
  • وہ حسیں گھر میں نہ ٹھہرے تو تعجب کیا ہے
    منزلوں دور وطن سے مہ کنعاں ٹھہرا
    الماس درخشاں
  • ان کا تشکر بھی ہے فرض دل و جان پر
    روح وطن بن گئے‘ جو مرے خونیں قبا
    سمندر
  • بس حُب وطن کا جپ چکے نام بہت
    اب کام کرو، کہ وقت ہے کام کا یہ
    حالی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter