• پڑا ہے اس میں وہ بے جاں وطن سے ہوکے آوارہ
    کہ جس کو فاطمہ نے بر میں پیغمبر کے پلوایا
    سودا
  • نکل وطن سے ہے غربت میں زور کیفیت
    کہ آن بحت ہے جب تک ہے تاک میں صہبا
    سودا
  • روح نے لطف بیاں میں جو چمن کا پایا
    شام غربت میں مزہ صبح وطن کا پایا
    تعشق لکھنوی
  • وطن سٹ کر قدیم اپنا جدیدی کاخ میں آکر
    رہیا ہے سو پر کٹ سوں گرفتاراں ہوے پیدا
    دیوان شاہ سلطان ثانی
  • آنکھیں جو دم نزع ہوئیں بند کھلے کان
    آواز سنائی پڑی یاران وطن کی
    اشک
  • کیا ہے عشق نے میری دُرونی میں وطن اپنا
    کہ ہر دم ڈھونڈتے پِھرتے اچھو دامِ سخن اپنا
    حسن شوق
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter