Shair

شعر

سُنی سنائی بات نہیں‘ یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو

(عندلیب شادانی)

تو جانتا نہیں مری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو

(بشیر بدر)

کھنجن میں گلنگوں میں بھی چاہت کی مچی جنگ
دیکھا جو طیوروں نے اسے حسن میں خوش رنگ

(نظیر اکبر آبادی)

جو فکر وصل ہوتی ہے چاہت میں جا بہ جا
اُس بیقرار نے بھی کیا سب وہ ٹھک ٹھکا

(نظیر)

کسِ نے چاہت میں نہیں دکھ پائے
پیار کرکے کِسے ایدا نہ ہوئی

(الماس ِ درخشاں)

غرق دریائے خجالت ہوگئے چاہت سے ہم
آبرو جتنی بہم پہنچائی تھی پانی ہوگئی

(رشک)

First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Poetry

Pinterest Share