• دانش و عقل و خرد چل دیے سب چاہت میں
    چھٹی پاکر نہ کوئی طفل دبستاں ٹھہرا
    الماس درخشاں
  • تم سے راسخ اٹھ سکیں گے صدمے چاہت کے کہاں
    ڈوبتا ہے جی ہمارا نام سن کر چاہ کا
    راسخ
  • لفظ تو سب کے اک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟
    دنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!
    امجد اسلام امجد
  • آنکھ چاہت کی ظفر کوئی بھلا چھپتی ہے
    اس سے شرماتے تھے ہم‘ ہم سے وہ شرماتا تھا
    بہار شاہ ظفر
  • بہار افروز میر گل کی مجھ کو چاہت نے
    بدن میرا اسی غم سے ہوا گھل گھل کے کانٹا ہے
    جان صاحب
  • کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سرزمینوں میں
    کہ جو اہلِ محبت ک سدا بے چین رکھتی ہے
    کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پارا
    کہ جیسے شام کا تارا
    محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
    گُماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے اُلفت کا!
    یہ عینِ وصل میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
    محبت کے مُسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
    تھکن کی کرچیاں چنتے ‘ وفا کی اجرکیں پہنے
    سمے کی رہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
    تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
    دھیرے سے کہتا ہے‘
    ’’یہ سچ ہے نا…!
    ہماری زندگی اِک دوسرے کے نام لکھی تھی!
    دُھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دُور پھیلا ہے
    اِسی کا نام چاہت ہے!
    تمہیں مجھ سے محبت تھی
    تمہیں مجھ سے محبت ہے!!‘‘
    محبت کی طبیعت میں
    یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے!
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter