Shair

شعر

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئ شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

(بشیر بدر)

کوئ ہاتھ بھی نہ ملائے گاجو گلے ملوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرافاصلے سے ملاکرو

(بشیر بدر)

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

(بشیر بدر)

مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہنیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو، جو سنا نہیں وہ کہا کرو

(بشیر بدر)

کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہوذراعاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلاکرو

(بشیر بدر)

نہیں بے حجاب وہ چاند ساکہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمی شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو

(بشیر بدر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 86

Poetry

Pinterest Share