Description
تفصیل
ہرا دھنیّا کی سرسبز اور تروتازہ پتیّاں نہ صرف دیکھنے والوں کی نگاہوں کو تراوٹ بخشتی ہیں بلکہ یہ غذا کا بھی اہم جُزو ہیں۔ چاہے وہ چٹنی ہو یا سالن پر چھڑکنے کے لیے اس کی پتّیاں، ہرا دھنیا ہر شکل میں اپنے آپ کو منوا لیتا ہے اور اس کی بہترین خوشبو پودینے کی طرح کھانے والے کی اشتہا كو بڑھا دیتی ہے ۔ ہرا دھنیا کھانوں کو ایک طرح کا ذائقہ بلکہ نکھار بخشتا ہے۔ہرے دھنئے کا اصل وطن وسط ایشیاء کے علاقے ہیں جہاں سے یہ جنوبی یورپ پہنچایا گیا اور پھر برّاعظم ایشیاء میں اس کی کاشت کی گئی جہاں ایران اور تُرکی کے ساتھ ساتھ ہندُستان اور پاکستان میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔اس سے پہلے ہرا دھنیا خودرو پیداوار کے طور پر مصر کی تہذیب میں دریافت کیا گیا تھا جہاں اس کی پتّیاں چوڑی اور خوشبو تیز تھی اور ذائقہ میں کسیلا پن نمایاں تھا پھر بعد میں برّاعظم افریقہ میں سوڈان کے علاقوں میں ہرے دھنئے کی کاشت کی گئی اور برطانوی علاقوں میں اس کا بھرپور استعمال کیا گیا۔
بائبل میں ہرے دھنئے کا "manna" کے عنوان سے تذکرہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے "سبز رنگ کی پتّیاں"
ہرے دھنئے کے بیج سب سے پہلے روس میں کاشت کیے گئے اُس کے بعد بھارت،جنوبی امریکہ، شمالی افریقہ خصوصاً مراکو میں اس کی کاشت کی گئی اور پھر رومن قوم نے ہرے دھنئے کو برطانیہ میں متعارف کروایا جہاں یہ انگریزی غذاؤں کا لازمی جُزو بن گیا۔چین میں بھی ہرے دھنئے کی کاشت کی گئی اور اسے "پارسلے" کے نام سے تعبیر کیا گیا۔
طبّی لحاظ سے بھی خُشک ہرا دھنیا اور سبز ہرا دھنیا نہایت مُفید ثابت ہوئے ہیں۔ اکثروبیشتر جن مریضوں کی بھوک ختم ہوجاتی ہے اُن کی اشتہا بڑھانے کے لیے طبیب ہرے دھنئے کی چٹنی یا اُس کی پتّیاں تجویز کرتے ہیں۔