Description
تفصیل
گھر میں بچی کچھی روٹیوں کو سُکھا لیا جاتا ہے پھر ہاون دستہ میں انہیں کُوٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد پانی میں ملاکر انہیں اُبال کر گُڑ یا کھانڈ وغیرہ ملاکر انہیں میٹھا بنادیا جاتا ہے۔ انتہائی سادہ زندگی بسر کرنے والے افراد یہ پکوان تیار کرتے ہیں البتہ ماضی میں غریب اور متوسط طبقہ یہ میٹھا بکثرت استعمال کرتا تھا۔ ماضی بعید میں بڑے بڑے صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین، ولی اللہ اور بزرگوں نے اسی سُنّت کو برقرار رکھا۔
تاریخِ اسلام کی اِن روایات کو علامہ شبلی نعمانی نے "الفاروق " میں بھی بیان کیا ہے ،جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اِن میٹھے ٹکڑوں کے کھانے کا تذکرہ ہے۔